—ساحر لودھی کا اصل روپ

—ساحر لودھی کا اصل روپ

Entertainment, Featured, Popular, Shows, Urdu Blogs No Comments on —ساحر لودھی کا اصل روپ

ساحر لودھی کے مارننگ شو ’’ آپ کا ساحر‘‘ میں کچھ عرصہ قبل سفیان نامی بچے نے ڈانس کیا جس کو دنیا بھر میں زبردست پذیرائی ملی۔ لیکن اس بچے میں کوئی ایسی بات تھی جس کی وجہ سے وہ ہر وقت پریشان اور مرجھایا ہوا رہتا تھا۔ ایک دن ساحر لودھی نے اس کو اپنے پاس بلاکرپوچھا، بیٹا آپ کو کیا پریشانی ہے۔

اس بچے نے بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی واثق ایسی بیماری کا شکار ہیں جس میں ان کی نشوو نما نہیں ہوتی۔ اس بیماری کے علاج کیلئے ہفتہ وار ایک انجکشن لگانا پڑتا ہے جس کی قیمت 8ہزار ہے۔ ان بچوں کے والد انتہائی غریب آدمی ہیں۔ انجکشن خریدنے کی طاقت نہیں جسے کے باعث ڈیڑھ سال سے دونوں بھائیوں نے انجکشن نہیں لگائے۔ بچے نے بتایا کہ ڈانس اس لئے کر رہے ہیں کہ انجکشن کیلئے پیسے کما سکیں۔

ساحر لودھی نے اس بچے سے وعدہ کیا کہ ایک سال تک آپ کا مکمل علاج اپنی جیب سے کروں گا اورجب تک آپ صحتیاب نہیں ہوتے، ڈانس بھی نہیں کریں گے۔ آئندہ پیر کو اس بچے کا علاج شروع ہورہا ہے۔ اسپتال میں اپوائٹمنٹ ہوچکی ہے اور ساحر لودھی اپنی نگرانی میں اس بچے کو مکمل علاج کروائیں گے۔

 

 

ساحر لودھی کا بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو شاندار خراج عقیدت
ساحر لودھی پر تنقید کرنے والے اس وقت کہاں تھے جب پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے ون ڈے انٹرنیشنل میں آسٹریلیا کے خلاف563 رنز بنا کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔ افسوس کی بات ہے کہ ناقدین سمیت اکثر لوگ اس شاندار کارنامے پر خاموش رہے۔ کسی نے بلائنڈ کرکٹ ٹیم کی حوصلہ ادفزائی نہیں کی۔ ساحر لودھی واحد اینکر ہے جس نے اپنے شو میں پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو ایسا شاندار خراج عقیدت پیش کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ ناقدین پرانی کلپس کو ایڈیٹ کرکے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے بجائے اصل حقائق پر نظر ڈالیں۔

 

بچوں کو نظر انداز نہ کریں، ان کو سنیں
نیوز ون پر نادیہ مرزا کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے ساحر لودھی نے کہا ہے کہ اب بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچنے کی آگاہی دینے کا وقت آگیا ہے۔ اگر آج ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے اور اپنے بچوں کو آگاہ نہیں کریں گے تو یہ نہ صرف غفلت بلکہ ایک بڑا جرم تصور کیا جائے گا۔ ہم نے معاشرتی اور سماجی روایات کو ایک طرف رکھ کر ان سلگتے مسائل پر کھل کی بات کرنا ہوگی۔ ورنہ جو سانحہ قصور میں رونما ہوا ہے اس کا سلسلہ دوسرے شہروں تک پھیل سکتا ہے۔ کراچی میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ہم نے ہر چیز کو مغربی اقدار کہہ کر جان چھڑانے کی روش ترک کرنی ہوگی۔ مغرب میں سب کچھ برا نہیں ہے، وہاں کی اچھی باتوں کو اپنانا چاہئے۔

 

 

مثبت باتوں کو نظر انداز کرنا اور تنقید کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ساحر لودھی نے اپنے شو میں بچوں کی چھپی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بچوں کو آگاہی دی۔ زینب کے واقعہ کے بعد بچوں کی جنسی ہراسانی سے بچنے کی تعلیم دی۔ والدین کو اس بارے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ مختلف شعبہ یائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو مدعو کرکے بچوں سے متعلق ہونے والے جرائم پر ان کا نتکہ نظر پیش کیا۔ اس قسم کے گھناونے جرائم سے متعلق اسلامی سزائوں پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ ہے ساحر لودھی کا اصل روپ لیکن ناقدین نے ساحر لودھی کی ان تمام مثبت باتوں کو چھوڑ کر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے بے و سر پا الزامات کا شروع کر دیا ہے جس میں ان کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

 

 

Author

Leave a comment

Back to Top